Concluding Ceremony of the 24th Convocation of Sir Syed University Held at Bahria

March 30, 2021
Concluding ceremony of the 24th Convocation of Sir Syed University held at Bahria
(R-L above) Kashif Mehtab Chawla, Dr Farhan Essa, Sirajuddin Aziz, (Rs-L below) Chancellor Jawaid Anwar, Vice Chancellor Prof. Dr. Vali Uddin and Registrar Syed Sarfraz Alid addressing the concluding ceremony of SSUET 24th Convocation.
دائیں سے بائیں کاشف مہتاب چاءولہ، ڈاکٹر فرحان عیسیٰ، سراج الدین عزیز، چانسلر جاوید انوار، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین اور رجسٹرار سید سرفراز علی سرسید یونیورسٹی کے کانووکیشن کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں ۔

KARACHI, March 29, 2021 – Concluding ceremony of the 24th Convocation of Sir Syed University of Engineering & Technology (SSUET), was held to felicitate the success of the graduates, followed by a photo session. The pass-outs from 11 departments were gathered to rejoice and share memorable moments with their fellows before parting away. The event had three sessions, presided over by the Registrar Syed Sarfraz Ali.
Addressing the students at the first session of the second part of the 24th SSUET Convocation, the chief guest Sirajuddin Aziz, Group Financial Institutions CEO, Habib Bank AG Zurich, said, “You are leaving the protected world and going to face the real world which is not so friendly. Everyone defines success differently. Success is not the same for everyone. First, you have to determine, what success to you is. Learning and growing is a lifelong process. Create unanimity between personal objectives and professional objectives; otherwise, you will be entrapped in conflicts of interest. Materialism is good to have but don’t let your wishes go wild.”
Speaking on the auspicious occasion, the Chief Guest of the second session, Dr. Farhan Essa,
Essa Laboratory & Diagnostic Centre advised the students that the leading expert in their chosen field should be their mentor who would be effective in their academic and professional careers. Each problem is a window to opportunity. Focus on time management because life is too short. Taking a decision is far better than not taking the decision, even if it proves to be a wrong decision.
Sharing his experience with the students, the Chief Guest of the third session, Kashif Mehtab Chawla, Alkaram Towel Industries, said that the world is working on the reuse and recycling of things focusing on sustainability. Try to work differently. Do something new. A strong IQ is essential for success in each and every field. Instead of successful stories, I prefer to read unsuccessful stories, not to repeat their mistakes in my life.
Earlier welcoming the guest speakers Registrar Syed Sarfraz Ali said that it is a red-letter day for the students who achieved success. You carry the legacy of Sir Syed Ahmed Khan and we are proud to have you in the corporate world. Graduation is just the beginning; you have a long way to go. I hope you have been qualified and trained enough to fight against the odds.
Dean Faculty of Computing & Applied Sciences, Prof. Dr. Aqeel ur Rehman said that students will have many job opportunities but he advised them to select the job according to their qualifications and skills where they can deliver better results.
Dean Faculty of Civil Engineering & Architecture, Prof. Dr. Mir Shabbar Ali said that the knowledge and training that students have gained from the university is good enough to work for another 48 years and they may need to extend their knowledge in the frontiers of their chosen area.
Associate Dean Faculty of Electrical & Computer Engineering, Prof. Dr. Muhammad Aamir, said that the students should endeavor to differentiate themselves from others. Today’s success indicates that graduates have adopted a perfect policy to reach the milestone. Convocation means life is transferring from one phase to another. You are leaving security to uncertainty, yet you are all set for a bright future.
Students Sundas Hashmi and Javeria Naeem delivered speeches at the end of each session and live Tarana e Aligarh was produced and presented by Guidance Centre. Convenor, Guidance Centre, and Advisor to the Chancellor, Siraj Khilji was lauded for his commendable efforts.
At the end of the ceremony, appreciating the guest speakers for their motivational thoughts, Chancellor Jawaid Anwar, said that success is not an activity but a process. However, give importance to three things – imagine, believe and achieve. If you don’t believe you are the best, then you will never achieve all that you are capable of.
Expressing gratitude for the presence of the guests, Vice-Chancellor Prof. Dr. Vali Uddin said that a dream becomes a goal when action is taken toward its achievement and small opportunities are often the beginning of great achievements.

سرسید یونیورسٹی کے چوبیسویں کانووکیشن کی اختتامی تقریب و فوٹو سیشن کا انعقاد

کراچی، 29/ مارچ،2021ء ۔ ۔ سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام چوبیسویں کانووکیشن کی اختتامی تقریب و فوٹو سیشن کا انعقاد کیا گیا جو تین حصوں پر مشتمل تھا ۔ اس تقریب میں گیارہ شعبوں کے طلباء و طالبات نے حصہ لیا ۔ تقریب کی صدارت رجسٹرار سید سرفراز علی نے کی ۔

چوبیسویں کانوو کیشن کے دوسرے حصے کے پہلے سیشن کے مہمانِ خصوصی حبیب بینک زیورچ کے گروپ فنانشل انسٹی ٹیوشن کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر سراج الدین عزیز نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ ایک محفوظ ماحول سے ایک ایسی حقیقی دنیا میں جارہے ہیں جہاں ہر قدم پر آپ کو نت نئے مسائل کا سامنا ہے اور دوستانہ ماحول بھی مفقود ہے ۔ ہر فرد کے نزدیک کامیابی کے معنی مختلف ہیں ۔ سب سے پہلے آپ معلوم کرلیں کہ آپ کے نزدیک کامیابی کا کیا تصور ہے ۔ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے ۔ آپ اپنے ذاتی مقاصد اور پیشہ ورانہ اہداف کے مابین ہم آہنگیپیدا کریں ۔ ورنہ آپ مقاصد کے تضاد میں الجھ جائیں گے ۔ مادیت پرستی اچھی بات ہے اگر آپ اپنی خواہشوں کو بے لگام ہونے نہ دیں ۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دوسرے سیشن کے مہمانِ خصوصی عیسٰی لیبارٹری کے ڈاکٹر فرحان عیسی نے طلباء کو مشورہ دیا کہ رہنمائی اور سرپرستی کے لیے ایسا رہنما ڈھونڈیں جس کا تعلق آپ کے اپنے شعبے سے ہو جس میں وہ مہارت رکھتا ہو تاکہ آپ اپنے کیریئر میں اس کی قابلیت اور تجربے سے استفادہ کر سکیں ۔ ہر مسئلہ کا ایک حل موجود ہے اور ہر مسئلہ آپ کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے ۔ زندگی بہت مختصر ہے اور سب سے اہم چیز وقت کی تنظیم و ترتیب ہے ۔ ٖفیصلہ نہ لینے سے بہتر ہے کہ کوئی فیصلہ لے لیا جائے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ غلط فیصلے ہی بعد میں درست فیصلوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔

الکرم تولیہ انڈسٹری کے کاشف مہتاب چاءولہ نے تقریب کے تیسرے سیشن کے مہمانِ خصوصی کے طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کچرے کو دوبارہ قابلِ عمل بنانے کا کام ہورہا ہے ۔ ناکارہ چیزوں کو دوبارہ کارآمد اور قابل استعمال بنایا جارہا ہے ۔ ہمیشہ ایک منفرد اور نئی سوچ کو اپنائیں ۔ ۔ یہی چیز آپ کو دیگر لوگوں سے ممتاز کرے گی ۔ ہر شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ذہانت بہت ضروری ہے ۔ میں کامیاب لوگوں سے زیادہ ناکام شخصیات کی کہانیاں پڑھنے کو ترجیح دیتا ہوں تاکہ ان کی غلطیوں سے سبق حاصل کروں اور اسے نہ دہراءوں ۔

قبل ازیں خیرمقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ آج کا دن آپ کی زندگی کا یادگار دن ہے ۔ آپ اپنی زندگی کے ایک مرحلے کو مکمل کر چکے ہیں ۔ گریجویشن آپ کی عملی زندگی کے سفر کا آغاز ہے ۔ ابھی آپ کو ایک طویل سفرطے کرنا ہے ۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جامعہ کی تعلیم اور تربیت طلباء کی رہنمائی اور مسائل سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گی ۔ یاد رکھیں آپ سرسید احمد خان ک وراثت کے امین ہیں ۔

قبل ازیں فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عقیل الرحمن نے کہا کہ آپ کو ملازمت کے لاتعداد مواقع ملیں گے مگر اپنی مہارت اور قابلیت کے لحاظ سے جاب حاصل کریں جہاں آپ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکیں ۔

فیکلٹی آف سول انجینئرنگ اینڈ آرکیٹیکچر کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر میر شبر علی نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی سے آپ نے جو علم اور مہارت حاصل کی ہے یہ آپ کو اگلے اڑتالیس سال تک کام آتی رہے گی ۔ تاہم متعلقہ شعبے میں مزید سیکھنے اور جاننے کا عمل جاری رکھئے ۔

فیکلٹی آف الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ نے زندگی کے ایک اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے جامع پالیسی بنائی ۔ آپ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں ۔ ایک اچھے مستقبل کے لیے محفوظ جگہ کو چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں جارہے ہیں جہاں بے یقینی ہے ۔ اپنی ترجیحات کو تعین درست کریں ۔

اس موقع پر سرسید یونیورسٹی کی طالبات سندس ہاشمی اور جویریہ ندیم نے بھی موقع کی مناسبت سے تقاریر کیں اور بعد ازاں طلباء و طالبات نے لائیو ترانہ علیگڑھ پیش کیا جسے گائیڈنس سینٹر کے کنوینئر سراج خلجی نے بڑی محنت سے تیار کیا تھا ۔

اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے چانسلر جاوید انوار نے مہمان مقررین کی متاثرکن اور متحرک کرنے والی تقاریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کوئی سرگرمی نہیں ہے بلکہ ایک عمل ہے جو ساری زندگی چلتا رہتا ہے ۔ تین چیزوں کو ہمیشہ اہمیت دینی چاہئے ۔ ۔ تصور، یقین اور حاصل ۔ ۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ آپ سب سے بہتر ہیں تو آپ وہ چیز بھی حاصل نہیں کر سکتے جس کی آپ صلاحیت رکھتے ہیں ۔

مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ خواب اسی وقت حقیقت کو روپ دھارتے ہیں جب آپ اسے حاصل کرنے کے لیئے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں اور چھوٹے مواقع ہی اکثر عظیم کامیابیوں کی ابتدا بنتے ہیں ۔