SSUET organized a 2-day International Conference on Smart and Sustainable City

Events | Miscellaneous Events
Quick Links
Academic Events
Miscellaneous Events
Sport Events
View All Events

The Department of Civil Engineering and Architecture of Sir Syed University of Engineering and Technology (SSUET) organized the 2-day first International Conference on Sustainable & Smart Cities (ICSSC 2023) that was attended by the Deans, Chairmen, HODs, and others. Chairman, HEC Sindh, Prof. Dr. Tariq Rafi was the Chief Guest, and Sr. Architect & Planner Arif Hasan was the Guest of Honor, while the Dean Faculty of Architecture and Management Sciences NED, Prof. Dr. Noman Ahmed gave a comprehensive presentation as keynote speaker on smart cities related to urbanization. The foreign research scholars Prof. Dr. Govind Parsad Lamichhane, School of Engineering, Pokhara University, Nepal, and Engr. Ashish Sapkota, Structural Engineer, AIT Bangkok physically participated in the conference and presented their thesis.
Speaking on the auspicious occasion, Chief Guest, Prof. Dr. Tariq Rafi, Chairman, HEC Sindh said that planners don’t see the light of day. In a country where the census of the city is vague, how can we plan for the future? The dynamics of the major city Karachi are completely different. The mistake of a doctor is hidden, it goes under the land into the grave. But the mistake of the engineer is visible above the ground.
Addressing the conference, Chancellor SSUET Jawaid Anwar said that a smart sustainable city is innovative and it uses Information and Communication Technology (ICT) to improve people’s quality of life, make urban operations and services more efficient and boost its competitiveness. Smart and sustainable cities become vibrant hubs of economic activity, environmental conservation, and social harmony.
Vice Chancellor SSUET, Prof. Dr. Vali Uddin said that technically, the areas of Sustainable and Smart Cities have an important role to play in the future of engineering knowledge. A smart city equipped with basic infrastructure is more prepared than a simple city in order to respond to contemporary challenges, providing a quality life and sustainable environment. Sir Syed University is playing a leading role in national socio-economic development by meeting the challenges of modern times through creating alliances and partnerships between academia and industry.
Renowned Architect and Planner, Arch. Arif Hassan said that the problem with infrastructure is that we already have too much of it that is neither maintained nor properly managed. Without an appropriate institution, you cannot manage properly and for having an appropriate institution you need policy. You cannot develop any infrastructure without ensuring social justice and equity, and the participation of people.
Keynote speaker, Dean Faculty of Architecture and Management Sciences NED, Dr. Noman Ahmed said that smartness means using fewer resources to gain maximum benefits. He informed that more than half of the population lives in informal settlements.
Presenting a vote of thanks, Registrar SSUET, Commodore (R) Syed Sarfraz Ali said that the conference offers a great opportunity for the academics’ researchers and scholars to deliver their enriching insights into the latest and emerging developments and trends in the fields of engineering and technology. In recent years, the concept of smart cities has gained momentum worldwide, offering a range of benefits for urban development. Smart cities are urban areas that use Information and Communication Technology (ICT) to improve the efficiency of city services and the quality of life for residents.
Dean, Faculty of Civil Engineering and Architecture, Prof. Dr. Mir Shabbar Ali, said that our society is constantly undergoing a process of evolution. Humans, technology, and the environment are continuously adapting to new changes over time. Smart cities aim at accessibility to quality housing, social integration, cultural and educational facilities, quality health conditions, and public safety. Arch. Fazal Noor and Dr. Imran also spoke on the occasion.

سرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام اسمارٹ وپائیدارشہر کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ سول انجینئرنگ اینڈ آرکیٹکچرکے زیرِ اہتمام اسمارٹ اور پائیدار شہروں کے عنوان پر دو روزہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں روسائے کلیات، سربراہانِ شعبہ جات و دیگر نے شرکت کی۔کانفرنس کے مہمانِ خصوصی سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، اور مہمانِ اعزازی معروف آرکیٹیکٹ و پلانر عارف حسن تھے جبکہ این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف آرکیٹکچر اینڈ مینجمنٹ سائنسز ڈاکٹر نعمان احمد نے بطور کلیدی مقرر ایک معلوماتی پریزنٹیشن دی۔کانفرنس میں شرکت کے لیے نیپال کی پوکھارا یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر گووند پرشاد اور بنکاک کی یونیورسٹی سے انجینئر آشیش سپکوٹا بطور خاص تشریف لائے اور اپنے مقالے پیش کئے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے کہا کہ منصوبہ سازوں کو دن کی روشنی نظر نہیں آتی۔۔جس ملک میں ایک بڑے شہر کراچی کی مردم شماری کے بارے میں تحفظات پائے جائیں، وہاں مستقبل کی بہترین پلاننگ کے کیاامکانات ہوسکتے ہیں۔شہرکراچی کے معاملات بالکل مختلف ہیں۔ڈاکٹر کی غلطی تو زمین کے نیچے یعنی قبر میں چھپ جاتی ہے مگر انجینئر کی غلطی زمین کے اوپر واضح نظر آتی ہے۔۔
اس موقع پر سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ ایک اسمارٹ و پائیدار شہر کا خیال بالکل نیا اور جدید ہے۔اسمارٹ شہر نہ صرف لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہری ترقیاتی کاموں اور خدمات کو مزید بہتر اور موثر بناتے ہیں۔اسمارٹ اور پائیدار شہر معاشی سرگرمیوں، ماحولیاتی تحفظ فراہم کرنے اور سماجی ہم آہنگی بڑھانے کے متحرک مرکز بن جاتے ہیں۔
سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ تیکنیکی طور پر،مستقبل کی انجینئرنگ میں پائیدار اور اسمارٹ شہروں کا بہت اہم کردار ہے۔۔بنیادی انفرااسٹرکچر سے مزین اسمارٹ شہر، سادہ شہروں کے مقابلے میں ایک معیاری زندگی اور پاک و صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے عصری چیلنجوں کا اچھے اور بہتر طریقے سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔سرسید یونیورسٹی، اکیڈمیا اور انڈسٹری کے باہمی اشتراک سے، قومی اقتصادی و معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے اور جدید دور کے چیلنجوں سے بخوبی نمٹ رہی ہے۔
معروف آرکیٹیکٹ و پلانر عارف حسن نے کہا کہ انفرااسٹرکچر کا مسئلہ یہ ہے کہ نہ ہی اس کی صحیح سے دیکھ بھا ل کی جاتی ہے اور نہ ہی اسے ڈھنگ سے چلایا جاتا ہے۔سب سے بڑی خرابی مینجمنٹ کی ہے۔ایک مناسب ادارے کی سرپرستی اور نگرانی کے بغیرکسی نظام کو اچھے طریقے سے چلانا ممکن نہیں ہے اور مناسب ادارہ کی موثر کارکردگی کی بنیاد پالیسی ہے۔آپ سماجی انصاف، مساوات اورلوگوں کی شراکت کو یقینی بنائے بغیر انفرااسٹرکچر کی ترقی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔
کلید ی مقرر این ای ڈی کے فیکلٹی آف آرکیٹکچر و مینجمنٹ سائنسز کے ڈین، ڈاکٹر نعمان احمد نے کہا کہ اسمارٹنس کا مطلب ہے کہ کم وسائل میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا۔انہوں نے بتایا کہ شہر کی نصف سے زیادہ آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے۔
اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی نے کہا کہ یہ کانفرنس ماہرین ِ تعلیم اور ریسرچ اسکالرز کے لیے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جدید اور ابھرتی ہوئی پیش رفتوں اور رجحانات کے بارے میں جاننے اور معلومات حاصل کرنے کابہترین موقع فراہم کرتی ہے۔حالیہ برسوں میں اسمارٹ شہروں کے تصور نے دنیا بھر میں بہت مقبولیت حاصل کرلی ہے۔یہ تصور شہری ترقی کے لیے فوائد کی ایک وسیع رینج پیش کررہا ہے۔اسمارٹ شہر دارصل شہری علاقے ہیں جو شہری خدمات اور شہریوں کی زندگی کے معیار کو کو بہتر کرنے کے لیے انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔
سرسید یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سول انجینئرنگ اینڈ آرکیٹکچر کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر میر شبّر علی نے کہا کہ ہمارا معاشرہ مسلسل ارتقاء کے عمل سے گزر رہا ہے۔انسان، ٹیکنالوجی اور ماحول مسلسل وقت کے ساتھ نئی تبدیلیوں کے مطابق ڈھل رہے ہیں۔اسمارٹ شہروں کا مقصد معیاری رہائش، سماجی ہم آہنگی، ثقافتی اور تعلیمی سہولیات، صحت کی معیاری صورتحا ل اور عوامی تحفظ تک رسائی ہے۔
اس موقع پرشعبہ آرکیٹکچر کے سربراہ فضل نور اور شعبہ سول انجینئرنگ کے سربراہ ڈاکٹر عمران نے بھی خطاب کیا۔

Recent Posting